تلاش شدہ نتائج

محفوظ شدہ الفاظ

"مِزَاج" کے متعقلہ نتائج

شاخ

ٹہنی، ڈالی

شاخیں

شاخ کی جمع، ٹہنیاں، دالیاں، تراکیب میں مستعمل

شاخی

پنجہ جس سے اناج صاف کرتے ہیں .

شاخَہ

ٹہنی، شاخ

شاكھا

شاخ، ڈال، ٹہنی

شاكُھو

بان٘سوں یا شہتیر كا بنایا ہوا ایک طرح كا عارضی پُل .

شاخ دار

ٹہنی والا، ڈنڈی والا، سین٘گ والا، شاخوں والا

شاخ شاخ

شاخ داری

ٹہنیاں نکالنے کی صلاحیت ، ٹہنی والا ہونا ؛ (مجازاً) ایک نسل سے کئی سلسلے نکلنا .

شاخ کَش

سینگی لگانے والا ، سینگی کھینچنے والا .

شاخ دَرْ شاخ

مسلسل، سلسلہ وار، یکے بعد دیگرے، پے درپے

شاخ ٹُھونٹ

وہ شاخ جو ٹھنٹھ سے پھوٹے

شاخ و بَن

شاخ بَشاخ

ایک شاخ سے دوسری شاخ پر

شاخِ زَر

سونے کی سلاخ جو خزانے میں رہتی ہے .

شاخ تَراش

ٹہنیوں کو قطع کرکے ہموار کرنیوالا (آلہ) ، شاخ کاٹنے والی (بڑی قینچی) .

شاخ لَگنا

دن لگنا ؛ سینگی لگنا ؛ اترانا .

شاخ چھانْٹنا

آراسگی یا بڑھوتری کے لیے درخت کو چھاٹنا (تراشنا) بڑھی ہوئی ٹہنیوں کو برابرکرنے کے لیے تراشنا .

شاخ شاخ کَرْنا

تجزیہ کرنا ؛ حصہ بخرے کرنا ، ٹکڑے ٹکڑے کرنا.

شاخِ گاؤ

شاخ دَرْ شاخ ہونا

شاخوں سے کئی کئی شاخیں پھوٹنا ، کثرت سے شاخیں نکالنا ؛ متفرع ہونا ؛ پھلنا پھولنا ، مختلف سمتوں میں نشوونما پانا .

شاخ میں شاخ لَگانا

بات سے بات پیدا کرنا ، الجھاؤ ڈالنا .

شاخ تَراشی

پودوں کو کاٹ چھانٹ کرکے درست کرنے کا کام ، پیراستگی کا عمل .

شاخ دار سِینگ

خاص قسم کا سینگ جو شمالی امریکہ کے ہرنوں میں پایا جاتا ہے ، کھوکھلے سینگ کے برعکس اس سینگ کے خول سے دو یا تین شاخیں نکلتی ہیں اور یہ ہر سال مکمل طور پر اکھڑ جاتا ہے اور پرانے کی جگہ نیا خول پیدا ہوتا ہے.

شاخِ گُل

پھولوں کی ڈالی، محبوبہ، معشوقہ

شاخ چھاٹْنا

آراسگی یا بڑھوتری کے لیے درخت کو چھاٹنا (تراشنا) بڑھی ہوئی ٹہنیوں کو برابرکرنے کے لیے تراشنا .

شاخ پَرْ شاخ نِکالْنا

مسلسل عیب جوئی کرنا

شاخ آرزو

شاخ لَگانا

ٹہنی کو زمین میں اگنے کے لیے دبانا، ابتدا کرنا، بنیاد رکھنا

شاخ پُھوٹْنا

نیا سلسلہ جاری ہونا ، نئی بات ہونا .

شاخِ دیوار

شاخِ غَزال

ہرَن کا سینگ ؛ (کنایۃَّ) کمان ؛ نیا چان٘د ، ہلال .

شاخ نِکَلْنا

جھگڑا کھڑا ہونا ، فتنہ برپا ہونا ، تکرار ہونا .

شاخِ تاک

انگور کے پیڑ کی شاخ، انگور کی لتا، انگور کی بیل، مدہوش کرنے والی شراب

شاخِ گَوزَن

شاخ نِکالْنا

بات پیدا کرنا

شاخ و بَرْگ دینا

پھیلانا ، اضافہ کرنا ، بڑھانا ، مزیّن کرنا .

شاخِ سِدْرَہ

بیری کے اس درخت کی شاخ جو ساتویں آسمان پر ہے اور جس سے آگے کوئی فرشتہ نہیں جاسکتا

شاخِ نازُک

کمزَور ٹہنی، (کنایۃَّ) کمزور سہارا، ناقابل اعتماد سہارا

شاخِ دَریا

دریا کا وہ حصّہ جو اصل دھارے سے علیحدہ ہو کر الگ بہتا چلا جائے

شاخِ آہوُ

ہَرن کا سینگ

شاخِ زَعْفَراں

زعفران کی شاخ، زعفران کی ٹہنی، زعفران کی ڈالی

شاخ بَندی کَرنا

درختوں کی ٹہنیاں لگانا ، درختوں کی ٹہنیون سے سجانا

شاخِ زَعْفَران

زعفران کی ٹہنی

شاخِ سُسْت

شاخِ زَیتون

زیتون کے پیڑ کی شاخ، امن و شانتی کے مفاہمت کی پیش کش

شاخ ثمرور

شاخِ بَدِیوار

مغرور، متکبر

شاخِ کَماں

کماَن کی لکڑی جو خمدار ہوتی ہے بڑھاپے کی جھکی ہوئی کمر، خمیدہ کمر

شاخ و بُن پَیدا ہونا

حقیقت ظاہر ہونا ؛ کسی معاملے کا صورت پذیر ہونا .

شاخِ بُرِیدَہ

کٹی ہوئی ٹہنی

شاخِ سَمَن

معشوق کا بدن یا قد

شاخِ گیسُو

شاخِ مَدرَسَہ

شاخِ طوبیٰ

جنت کے درخت کی شاخیں، طوبیٰ کا پیڑ، مبارک اشارہ

شاخِ بِلَّور

شیشہ کا لمبا اور گول ٹکڑا

شاخِ زَعْفَران گِننا

اپنے آپ کو بہت اچھا سمجھنا، فخر کرنا

شاخِ آفتابی

سورَج کی کرنیں یا شعاعیں .

شاخِ نَبات

گنا ، نے شکر .

شاخِ شَجَرَہ

اردو، انگلش اور ہندی میں مِزَاج کے معانیدیکھیے

مِزَاج

mizaajमिज़ाज

اصل: عربی

وزن : 121

موضوعات: حیاتیات طب فقرہ

اشتقاق: مَزَجَ

مِزَاج کے اردو معانی

اسم، مذکر

  • ملانے کی چیز، آمیزش
  • (طب) وہ کیفیت جو عناصر اربعہ کے باہم ملنے سے پیدا ہوتی ہے، جب یہ عناصر ٰآپس میں ملتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کی کیفیت گرمی و سردی اور خشکی و تری کے باہم ملنے سے اور ان کے فعل و افعال سے ان کی تیزی دور ہو جاتی ہے اور ایک نئی متوسط کیفیت پیدا ہو جاتی ہے یہی مزاج ہے
  • انسان کی طبیعت، ذہن کی حالت، جسمانی کیفیت
  • سرشت، فطرت، خمیر، افتاد طبیعت
  • خاصیت، اثر، خاصہ
  • (حیاتیات) رد عمل، تاثر (جسم وغیرہ کی خارجی مہیج)
  • عادت، خصلت
  • غرور، تکبر
  • ناز، نخرہ، بدمزاجی، چوچلا
  • مادہ، اصلیت، جوہر، حقیقت

صفت

  • ایسا شخص جس کی طبیعت میں آوارگی ہو، بدچلن، عیاش، شوقین مزاج

شعر

English meaning of mizaaj

मिज़ाज के हिंदी अर्थ

संज्ञा, पुल्लिंग

  • मिलाने की चीज़, मिलावट
  • (चिकित्सा) वह अवस्था जो 'अनासिर-ए-अर्बा' के परस्पर मिलने से पैदा होती है, जब यह तत्व आपस में मिलते हैं तो उनमें से हर एक की अवस्था गर्मी और सर्दी और शुष्कता और आर्द्रता के आपस में मिलने से और उनकी क्रियाओं से उनकी तेज़ी दूर हो जाती है और एक नई बीच की अवस्था पैदा हो जाती है यही मिज़ाज है

    विशेष - 'अनासिर-ए-अर्बा'= जिन चार तत्वों से शरीर का निर्माण होता है वे जल, अग्नि, वायु और पृथ्वी हैं

  • इंसान का स्वभाव, ज़ेहन की अवस्था, शारीरिक दशा
  • प्रकृति, स्वभाव, किसी पदार्थ या व्यक्ति की मूल प्रवृत्ति, स्वाभाविक झुकाव
  • विशेषता, प्रभाव, विशिष्टता
  • (जीव विज्ञान) प्रतिक्रिया, प्रभाव (शरीर इत्यादि का बाहरी विकास)
  • आदत, प्रकृति
  • ग़ुरूर, अहंकार
  • नाज़, स्त्रियों, सुंदरियों एवंं प्रमिकाओं के हाव-भाव और लक्षण, चिड़चिड़ापन, चोचला
  • पदार्थ, वास्तविकता, अणु, हक़ीक़त

विशेषण

  • ऐसा व्यक्ति जिसके स्वभाव में आवारगी हो, जिसका चाल-चलन अच्छा न हो, विलासी, मन बहलाने वाली चीज़ों में रुचि रखने वाला

مِزَاج سے متعلق دلچسپ معلومات

مزاج بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پرسش حال کے محل پر یہ لفظ صرف واحد بولا جانا چاہئے۔ جوش صاحب اس پر سختی سے کاربند تھے اور کہتے تھے کہ کسی شخص کا مزاج تو ایک ہی ہوتا ہے، پھر ’’آپ کے مزاج کیسے ہیں؟‘‘ کہنا بے معنی ہے، ’’آپ کا مزاج کیسا ہے؟‘‘ بولنا چاہئے۔ جوش صاحب کا اصراراصول زبان سے بے خبری ہی پر دال کہا جائے گا، کیوں کہ زبان میں منطق یا قیاس سے زیادہ سماع کی کارفرمائی ہے۔ جگن ناتھ آزاد کہتے ہیں کہ جوش صاحب یہ بھی کہتے تھے کہ محاورے کو منطق پر فوقیت ہے۔ یہ بات یقیناً سو فی صدی درست ہے، لیکن پھر جوش صاحب کے لئے اس اعتراض کا محل نہیں تھا کہ مزاج تو ایک ہی ہوتا ہے، اسے جمع کیوں بولا جائے؟ محاورے کے اعتبار سے ’’آپ کا مزاج کیسا ہے؟‘‘ بھی ٹھیک ہے، اور’’آپ کے مزاج کیسے ہیں؟‘‘ بھی ٹھیک ہے۔اب کچھ مزید تفصیل ملاحظہ ہو: احترام کے لئے بہت سے لوگوں کے ساتھ ہم جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے، ’’آپ کے ابا اب کیسے ہیں؟‘‘، یا ’’یا آپ کی اماں اب کیسی ہیں؟‘‘ تو کیا اس پر اعتراض کیا جائے کہ ابا اور اماں تو ایک ہی ہیں، پھر انھیں جمع کیوں بولاجاتا ہے؟ اصولی بات یہی ہے کہ اردو میں (بلکہ عربی فارسی میں بھی)اکثر احترام ظاہر کرنے کے لئے جمع استعمال کرتے ہیں۔ اسی لئے’’ابا/اماں‘‘ بھی جمع ہیں، ’’مزاج‘‘ بھی موقعے کے لحاظ سے جمع بولا جاسکتا ہے۔ ہم لوگ حسب ذیل قسم کے فقرے:’’اللہ میاں فرماتے ہیں‘‘، ’’اللہ میاں گناہ کو ناپسند کرتے ہیں‘‘، اسی اصول کے تحت بولتے ہیں۔ ایک صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ ان فقروں میں شرک کا شائبہ ہے۔ ظاہر ہے کہ زبان کے اصول کا مذہب کے اصول سے کوئی تعلق نہیں۔ ورنہ ہم لوگ ’’صلواۃ‘‘ اور’’صلواتیں سنانا‘‘ کو دو بالکل الگ معنی میں کیوں بولتے، درحالیکہ ’’صلواتیں سنانا‘‘ بمعنی ’’برا بھلا کہنا، گالیاں دینا‘‘ میں اسلام کے عظیم الشان رکن صلواۃ کی تحقیرکا اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اعتراض غلط ہے۔اس طرح اعتراض لگائے جائیں گے تو ’’مفت کی توقاضی کو بھی حلال ہی‘‘ اور’’ریش قاضی‘‘ جیسے محاورے اور فقرے زبان سے باہر کرنے ہوں گے۔اور ظاہر ہے کہ زبان کا بھلا چاہنے والا کوئی یہ نہ چاہے گا۔ ناسخ نے’’ریش قاضی‘‘ کیا خوب استعمال کیا ہے اور’’مزاج‘‘ کے واحد یا جمع ہونے کے بارے میں ایک سند بھی مہیا کر دی ہے ؎ نہ پائی ریش قاضی تولیا عمامۂ مفتی مزاج ان مے فروشوں کا بھی کیا ہی لا ابالی ہے ناسخ کے شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ’’مزاج‘‘ اگر ’’طینت‘‘ کے معنی میں بولا جائے تو واحد البتہ ہوگا۔ مندرجہ ذیل اشعار اس کی مزید تائید کرتے ہیں، داغ (۱) اور ذوق(۲) ؎ دل لگی کیجئے رقیبوں سے اس طرح کا مرا مزاج نہیں آگیا اصلاح پر ایسا زمانے کا مزاج تا زبان خامہ بھی آتا نہیں حرف دوا اقبال نے نظم ’’ایک گائے اور بکری‘‘ میں بکری اور گائے دونوں کی زبان سے ’’مزاج‘‘ کو جمع کہلایا ہے، اور داغ کے یہاں یہ واحد ہے (۱) اقبال (۲) داغ ؎ بڑی بی مزاج کیسے ہیں گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں نہیں معلوم ایک مدت سے قاصد حال کچھ ان کا مزاج اچھا تو ہے یادش بخیر اس آفت جاں کا لیکن اب بعض محاوروں میں’’مزاج‘‘ کو جمع بھی بولنے کا رجحان ہوگیا ہے، مثلاً ’’ایک ڈانٹ ہی میں اس کے مزاج درست ہو گئے‘‘، یا ’’وہ ہم لوگوں سے نہیں ملتے، ان کے مزاج بہت ہیں‘‘، وغیرہ۔ایک حد تک یہ رجحان پہلے بھی تھا، چنانچہ قائم چاند پوری کا شعر ہے ؎ کچھ لگ چلا تھا رات میں بولا کہ خیر ہے حضرت مزاج آپ کے کیدھر بہک گئے ملحوظ رہے کہ ’’مزاج‘‘ کو ’’صحت‘‘ کے معنی میں بولتے تو ہیں، لیکن صرف استفسار کی حد تک۔ یعنی ’’ان کامزاج اب کیسا ہے؟‘‘ کے معنی ’’ان کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ بالکل درست ہیں، لیکن ’’ان کا مزاج ٹھیک نہیں‘‘ کے معنی ’’ان کی طبیعت ٹھیک نہیں‘‘ یا ’’وہ بیمار ہیں‘‘ نہیں ہوسکتے۔’’ان کا مزاج ٹھیک نہیں‘‘ کے معنی ہیں: ’’وہ اس وقت غصے میں ہیں‘‘، یا، ’’ان کا مزاج برہم ہے‘‘۔

ماخذ: لغات روز مرہ    
مصنف: شمس الرحمن فاروقی

مزید دیکھیے

حوالہ جات: ریختہ ڈکشنری کی ترتیب میں مستعمل مصادر اور مراجع کی فہرست دیکھیں ۔

رائے زنی کیجیے (مِزَاج)

نام

ای-میل

تبصرہ

مِزَاج

تصویر اپلوڈ کیجیے مزید جانیے

نام

ای-میل

ڈسپلے نام

تصویر منسلک کیجیے

تصویر منتخب کیجیے
(format .png, .jpg, .jpeg & max size 4MB and upto 4 images)
بولیے

Delete 44 saved words?

کیا آپ واقعی ان اندراجات کو حذف کر رہے ہیں؟ انہیں واپس لانا ناممکن ہوگا۔

Want to show word meaning

Do you really want to Show these meaning? This process cannot be undone