زیادہ تلاش کیے گئے الفاظ

محفوظ شدہ الفاظ

زیادہ تلاش کیے گئے الفاظ

لاچار

جس کے پاس چارۂ کار نہ ہو، بے بس، مجبور، ناچار

تَوازُن

(خیال یا دماغ وغیرہ کی) ہمواری، استواری

طُومار

طویل کہانی یا قصّہ (جو ناگوار ہو جائے) تحریروں یا بیانات کا بڑا مجموعہ

عالی

اونچا، بلند، برتر, معزز، قابل احترام (درجہ شان و شوکت، قدر و قیمت وغیرہ میں)، تعظیم کے واسطے جیسے: مزاج عالی

مُنصِف مِزاج

جس کی طبیعت میں انصاف ہو، عدل سے کام لینے والا

مِنَن

منتیں، احسانات، نیکیاں

پوشِیدَہ

مخفی، پنہاں، چھپا ہوا، خفیہ

فُرْقَت

دوری، جُدائی، علیحٰدگی، ہجر

غازِی

اللہ کی راہ میں کافروں سے جنگ کرنے والا، مردِ جنگ آزما، دشمنِ دین سے لڑنے والا مجاہد

فَرْدِ جُرْم

(قانون) مسل کا وہ کاغذ جس پر مجرم کا جرم اور دفعہ شہادت لینے کے بعد درج کی جائے

ہِجرَت

کسی علاقے شہر یا ملک کو چھوڑ دینا، وطن کو خیرباد کہنا، وطن کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جانا، ترک وطن

مارگ

راستہ، راہ

مِرْگی کا دَورَہ

مرض مرگی کا حملہ

چَوبارا

مکان کے اوپر کا وہ کمرہ جس کے چار دروازے یا چاروں طرف کھڑکیاں ہوتی ہیں، کوٹھا، بالا خانہ، چومنزلہ عمارت

سَراب

وہ ریت یا تار کول جس پر دُھوپ میں دُور سے پانی کا دھوکا ہوتا ہے

حَرْفی

حرف سے متعلق، حرف والا، حرف سے منسلک

مَعْذَرَت

عذر، حیلہ، بہانہ، معافی، درگزر

نائِب قاصِد

قاصد کا مددگار، قاصد سے چھوٹا عہدہ دار، سرکاری ڈاک لے جانے والے ہرکارے کا معاون

مُخْتَصَر

خلاصہ کیا گیا، اختصار کیا گیا، جس میں طوالت نہ ہو، کم، تھوڑا، ذرا سا، چھوٹا، چھوٹے قد کا، جو لمبا نہ ہو

بیزار

متنفر، اکتایا ہوا، خفا، ناخوش

گَرْدَن پَر چُھری پھیرْنا

ذبح کرنا، گلا کاٹںا

سَن٘گِ ماہی

آبی جانوروں کے اس خاندان کو کہتے ہیں جِن کی پشت پتھر کی طرح سخت ہوتی ہے

مُسَلْسَل

متواتر، پیہم، لگاتار

عَہْدِ وَفا

وفاداری کا اقرار، وعدے کا پورا کرنا

تَرْک دُنْیا

دنیاداری اور عیش و عشرت سے منحرف ہونا، فقیری اختیار کرنا، خلوت گزینی، رہبانیت

سَفّاک

خوں ریز، قاتل، بے رحم، ظالم

سُبُک خِرام

تیزرو، برق رو، تیز رفتار، بہت تیرز چلنے والا

معیار

کسوٹی، محک، کھرا کھوٹا جانچنے کا پتھر، پرکھ یا جانچ پڑتال کا طریقہ

کِھسْیانی بِلّی کَھمْبا نوچے

جسے غصہ آرہا ہو وہ دوسروں پر اپنی جھلاہٹ اتارتا ہے، بےبسی میں آدمی دوسروں پر غصّہ اتارتا ہے

شَرِیکِ حَیات

زندگی کا رفیق یا ساتھی، مراد : عموماً بیوی یا شوہر

لَمْس

کسی چیز کو چُھو کر محسوس کرنے کی قوّت، وہ قوّت جس سے نرمی سختی اور سردی گرمی وغیرہ کو محسوس کیا جاتا ہے، قوّتِ لامسہ

اِخْتِیار

حکم چلانے کی اہلیت، کسی بات یا معاملے پر پورا پورا تصرف حاصل ہونے کی حیثیت، آئینی طورپر حل وعقد یا تصرف کا استحقاق، اقتدار حاکمیت

چَوکا چَڑھانا

مصنوعی دانْت منْھ میں لگانا

گَرْدِش

دَوَری حرکت، چکّر، دَور، پھیر، گھماؤ

فاش

ظاہر، آشکارا، صریح، کھلم کھلا، اعلانیہ

دُعا مُسْتَجاب ہونا

عرض و التجا کا قبول ہو جانا، مراد حاصل ہونا

مُستَجاب

جواب دیا گیا، مجازاً جسے قبول کیا جائے، جسے مان لیا جائے (عموماً دعا وغیرہ)

قُرْبَت

ظاہری یا معنوی نزدیکی نیز تقرب، رشتہ داری

طِفْلِ مَکْتَب

یَوم وِلادَت

پیدائش کا دن، سالگرہ کا دن، جنم دن

اَز سَرِ نَو

نئے سرے سے، دوبارہ، پھر سے

کَم ظَرْف

حوصلے اور ہمّت میں پست، کم حوصلہ

رُوْ پُوْش

منھ چھپائے ہوئے، مخفی، پوشیدہ

زُود پَشیمان

اپنے کسی نامناسب طرزعمل یا کسی ناروا بات پر جلد پچھتانے والا، اپنی غلطی یا خطا پر جلد شرمندہ ہونے والا

دَسْتْرَس

رسائی، پہنچ

پولَج

وہ اراضی جس پر ہر سال کھیتی کی جاتی ہے

شِدَّت

زور، زیادتی، کثرت، افراط

مُشْتِ خاک

(لفظاً) مٹھی بھر خاک، خاک کی مٹھی، خاک کی چٹکی

اَذِیَّت

جسمانی تکلیف، دکھ

صِنْف

جنس

فاسِق

حسن و فلاح کے راستے سے منحرف ہو جانے والا، گنہ گار، بدکار، جھوٹھا، حرام کار، بے ایمان

عُہْدے

منصب، مرتبہ، حکومت

مُنافِق

جو ظاہر میں دوست باطن میں دشمن ہو، جو دھوکا دینے کے لیے ظاہراً ایمان لایا ہو، دل میں کینہ رکھنے والا، ریاکار، مکّار

مُطْمَئِن

اطمینان پانے یا رکھنے والا، بے فکر، آسودہ

اُرْدُو

ریختہ، ہندوی

صِنْفِ سُخَن

نوع شاعری کی قسم

آہَن

لوہا، فولاد

جانِ مَن

(لغوی) میری جان یعنی عزیز‘ پیارے

مَطْلَب

مفہوم، مضمون، معنی، مدعا

عَہْد

وقت، زمانہ، دور

غِذائے ثَقِیل

کھانا جو دیر ہضم ہو، دیر ہضم غذا

غَرْق

ڈوبنا، پانی کا سر سے گزر جانا

ہَم عَہْد

ہم عصر، ہم زمانہ، ایک زمانے کا، جو ایک ہی عہد میں حیات ہوں

عَہْدِ حُکُومَت

حکومت کا زمانہ، دورِ حکومت، حکمرانی کا زمانہ، ایّام حکومت

عَہْدِ نَو

نیا زمانہ، عصرِ حاضر، موجودہ تہذیب کا دور

تَجْدِید

نیا کرنے کا عمل، نئے سرے سے کوئی کام کرنے کی حالت

خود ساخْتَہ

خود بنایا ہوا، اپنے طور پر دعویدار، اپنے من سے گھڑا ہوا، من گھڑت

قَناعَت

تھوڑی چیز پر رضا مندی، جو کچھ مل جائے اس پر صبر کرلینے کی خُو

غَیر مُہَذَّب

بد تہذیب، جس میں تہذیب و اخلاق نہ ہو، تہذیب و تمدن سے ناواقف، ناشائستہ، غیرمتمدن

رَقْص

اصول نغمی یا فطری امنگ اور جوشِ مسرت میں تھرکنے اور ناچنے کا عمل یا کیفیت، ناچ، ناچنا

عُمْرِ دَراز

لمبی عمر، طویل زندگی

تَذْلِیل

رسوائی، ذلت، تحقیر، خوار کرنا

قَولِ فَیصَل

فیصلہ کن بات، قطعی اور آخری بات، حکم ناطق

زُلْفِ دَراز

لمبے گیسو، لمبے بال

سَرزَنِش

بُرا بھلا کہنا، تنبیہ، ملامت، ڈانٹ ڈپٹ

ثَقافَت

کسی بھی ملک یا علاقے کے خاص طور طریقے اور رسم و رواج وغیرہ، کسی قوم یا گروہ انسانی کی تہذیب کے اعلیٰ مظاہر جو اس کے مذہب نظام اخلاق علم و ادب اور فنون میں نظر آتے ہیں، تہذیب، کلچر

عَوامُ النّاس

تمام لوگ، عام لوگ، عام آدمی

آئِین

قانون، ضابطہ، دستور العمل، شرع، شاستر

زِنا بِالْجَبْر

کسی عورت سے زبردستی بدکاری کرنے کا عمل، کسی کے ساتھ زبردستی زنا کرنے کا عمل

اِعْتِماد

تکیہ، بھروسہ، یقین، اعتبار، ساکھ، مان

اِعْتِبار

یقین، اعتماد، بھروسہ، تکیہ،

بادِ صَبا

صبح کے وقت قبل طلوع شمال مشرق سے چلنے والی ہوا جو صحت بخش و خوش گوار ہوتی ہے، نسیم سحر، پروا ہوا

رَشْک

کسی کی خوبی یا خوش بختی دیکھ کر یہ خیال کرنا کہ ہمیں بھی یہ خوبی یا خوش بختی حاصل ہو جائے (لیکن اس کے پاس بھی رہے)، کسی کی دولت پر اس کے زوال کے بغیر کی جانے والی خواہش، یہ آرزو کہ جو دوسرے کو حاصل ہے مجھے بھی مل جائے، غبطہ

عَلامَتِ بُلُوْغْ

جوانی کی نشانی، جیسے: مونچھوں کا نکلنا وغیرہ

قَوْمِی سَلامَتِی

ملک کی حفاظت، یا اس کے دفاع میں اٹھائے گئے اقدامات

زِیسْت

زندگی، حیات

عَزْمِ سَفَر

کوچ کا قصد، سفر کی نیت کرنا، سفر کا ارادہ

رَقِیب

نگہبان، محافظ، پاسبان، دربان، رکھوالا، نگراں

اَلْفاظ

(متعدد) لفظ، بامعنی آوازیں جو بولی اور لکھی جائیں، کلمات

قِلَّت

كمی (خواہ مقدار میں ہو یا كیفیت میں) (كثرت كا نقیض)

اَمْوات

موت اور میّت کی جمع، وفات، مرنا

تَغافُل

دانستہ غفلت، بالارادہ برتی ہوئی بے التفاتی

فِراق

جُدائی، ہجر، فرقت

بَد نَصیب

جس کی قسمت میں تکلیف اور رنج ہو، مصیبت زدہ

عَدُو

حريف، خصم ، دشمن، بدخواه

اَنْجُم

ستارے، تارے، کواکب، نجوم

عَدْل

انصاف ، دار گُستری

چِلْمَن

تیلیوں کا بنا ہوا پردہ جو عام طور پر گھروں اور گاڑیوں کے دروازوں اور دریچوں پر ڈالا جاتا ہے تا کہ باہر والوں کو اندر کی کوئی چیز نظر نہ آئے، ایک طرح کی چق، چک

دِفاع

روکنے دُور کرنے یا ہٹانے کا عمل یا کیفیت، حفاظت، بچاؤ

اُلْفَت

چاہت، انس، محبت

رَنْجِش

کشیدگی، خفگی، آزردگی، ناخوشی، کدورت

سَماعَت

۳. حاکم کا کسی مقدمے کی کارروائی سُننا ، مقدمہ زیر سماعت ہونا.

دِل آزاری

دل دُکھانے کا عمل، ظلم و ستم، ایذا رسانی

تَوہِینِ عَدالَت

(قانون) کوئی ایسا لفظ کہہ دینا یا ایسا کام کرنا جس سے عدالت کی تحقیر پائی جاتی ہو، عدالت کی ہتک، عدالت کی بے توقیری، عدالت کی تحقیر

مَنصُوبَہ

وہ کام جس کا ارادہ کیا گیا ہو، مقصود و منشا، کوئی اہم کام جس کا خیال یا تدبیر ذہن یا کاغذ وغیرہ میں محفوظ ہو، منشائے دل، مقصد، ارادہ، تدبیر، جوڑ توڑ

عَداوَت

دشمنی، بغض، عناد، خُصُومَت، مخالفت، معادنت، اختلاف

عَزْم

ارادہ، قصد، نیت

شَب

غروبِ آفتاب سے صبح تک كاوقت

آفْتاب

سورج، شمس

Home / Blog / کٹھ حجتی ہو یا کٹ حجتی، ہیں دونوں بُری

کٹھ حجتی ہو یا کٹ حجتی، ہیں دونوں بُری

by احمد حاطب صدیقی (ابو نثر) 15 December 2021 5 min Read

کٹھ حجتی ہو یا کٹ حجتی، ہیں دونوں بُری

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق صدر نشیں محترم مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب حفظہٗ اللہ اپنے تازہ مکتوب میں رقم طراز ہیں:

’’ہم ’کٹ حجتی‘ لکھتے اور بولتے رہے ہیں۔ ریختہ میں بھی ہم نے دیکھا تو کٹ حجتی ہی ہے۔ ’’کٹ حجتی‘‘ کے معنی ہیں: ’’خواہ مخواہ کی بحث، بحث برائے بحث،اپنی بات پر اڑنا، ضد سے کام لینا، بے جا حجت‘‘۔ لیکن جناب ابونثر نے ’’کٹھ حجتی‘‘ لکھا ہے، آیا یہ زیادہ فصیح ہے یا کاتب کی غلطی ہے؟‘‘ ( ہفت روزہ ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ ۳ دسمبر ۲۰۲۱ء)

سب سے پہلے تو ہم محترم مفتی صاحب کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اپنی گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود آپ ہم جیسے کم علم کالم نگاروں کو بھی لائقِ اعتنا گردانتے ہیں، پوری توجہ سے کالم پڑھتے ہیں اور رہنمائی بھی فرماتے ہیں۔ اللہ ان کی عمر میں برکت دے۔

جہاں تک کٹ اور کٹھ کا تعلق ہے تو ’کٹ‘ بھی ’کٹھ‘ ہی کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ اصلاً یہ ’کٹھ‘ ہی تھا، مگر ممکن ہے کہ کسی کٹھ حجت نے دو چشمی ’ھ‘ کو کاٹ کھایا ہو اور کٹ حجتی شروع کردی ہو۔ حجت بازی بڑھ جانے سے اب کٹ حجتی اور کٹھ حجتی (یا کٹ مُلّا اور کٹھ مُلّا) ایک دوسرے کے متبادل ہوگئے ہیں۔ زیادہ فصیح کیا ہے، اس کا فیصلہ تو فصحا ہی کرسکتے ہیں۔ مفتی صاحب نے ’ریختہ‘ کا حوالہ دیا ہے تو ’ریختہ‘ پر بھی کٹھ حجت اورکٹھ حجتی، دونوں تراکیب مُندرج ہیں۔ نوراللغات میں بھی کٹ حجت اور کٹھ حجت ہر دوالفاظ براجمان ہیں۔

’کٹھ‘ اصل میں کاٹھ کا مخفف ہے۔ اسی سے ’کٹھ پتلی‘ ہے، جو یہ کہہ کرکسی مسند پر بٹھا دی جاتی ہے کہ ’’یہی فیصلہ عوام کا ہے‘‘۔ کٹھ پتلی، کاٹھ یعنی لکڑی سے بنی ہوئی پُتلی کو کہتے ہیں۔ اہلِ تماشا اس میں ایسا دھاگا باندھ دیتے ہیں جو دُور سے نظر نہ آئے، پھر اُنگلی کے اشاروں سے جیسے چاہتے ہیں نچاتے رہتے ہیں۔ دوسرے کی عقل اور دوسرے کی رائے پر چلنے والے بے اختیار آدمی کو بھی کٹھ پتلی کہتے ہیں، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ ’کاٹھ کا اُلّو‘ کنایۃً بے وقوف شخص کو کہتے ہیں۔ گھر کے ٹوٹے پھوٹے سامان کو ’کاٹھ کباڑ ‘ کہا جاتا ہے۔ گھوڑے کی پیٹھ پر رکھی جانے والی زین جس کے نیچے مضبوط لکڑی ہوتی ہے ’کاٹھی‘ کہلاتی ہے۔ توانا جسم کو بھی ’کاٹھی‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔کہتے ہیں:
’’بوڑھے ہوگئے، مگر کاٹھی مضبوط ہے‘‘۔

ہُد ہُد، جس کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی آیا ہے اور ایک معزز شاہی قاصد کے طور پر آیا ہے، درختوں کی پختہ شاخوں اور تنوں میں چونچ سے چھید کرکے آشیانہ بناتا ہے۔ اپنی اس حرفت پر اہلِ ہند سے داد پانے کی جگہ بے چارہ ’بے داد‘ پاتا ہے اور ہندی میں ’کٹھ پھوڑا‘ کہلاتا ہے۔ یعنی کاٹھ یا لکڑی پھوڑ ڈالنے والا۔

’کاٹھ ‘خشک اور مضبوط لکڑی کو کہا جاتا ہے۔ اس سے کاٹھ کا گھوڑا اور بچوں کے متعددکھلونے بنائے جاتے ہیں۔ بچوں ہی کے لیے کہی گئی ایک غزل میں چچا غالبؔ غزل خواں بچے کی زبان سے کہلواتے ہیں:

گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلاؤں تمھیں
کاٹ اپنی کاٹھ کی تلوار کا

یہ غزل ’قادرنامہ‘ میں شامل ہے۔ قادر نامہ چچا نے بچوں کے ساتھ وہی مشغلہ اختیار فرماتے ہوئے لکھا ہے جو اُن کا لغوی بھتیجا یہاں اپنائے ہوئے ہے۔ یعنی الفاظ اور ان کے معانی سے کھیلنا۔ مثلاً:

رُوئی کو کہتے ہیں پنبہ سن رکھو
آم کو کہتے ہیں انبہ سن رکھو

اوپر،غزل والے شعر میں، چچا نے ’کاٹ‘ کو مذکر باندھ دیاہے، جب کہ لغات میں یہ ’اسمِ مؤنث‘ ہے۔ شاید ردیف کی مجبوری سے چچا کو اس لفظ کی جنس تبدیل کرنی پڑ گئی۔ ردیف کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیے کہ اسی غزل کے ایک شعر میں چچا بچوں کو کیا پٹّی پڑھا رہے ہیں:

وہ چُراوے باغ میں میوہ جسے
پھاند جانا یاد ہو دیوار کا

’کٹھ‘ کے وہ معانی جو حجتی کے گلے میں پہنادیے گئے ہیں دراصل کاٹھ ہی سے مشتق ہیں۔ سخت، اَڑیل، بے حس اور بے لچک۔ جو شخص (مفتی صاحب کے بتائے ہوئے معنوں کے مطابق) خواہ مخواہ کی بحث یا بحث برائے بحث کرتا ہو، اپنی بات پر اڑا رہتا ہو، ضد سے کام لیتا ہو، یا بے جا حجت کیے جاتا ہو، اُسے بھی خشک لکڑی یا کاٹھ کی طرح کا سخت، ناسمجھ، اڑیل ٹٹو جانیے۔ کٹھ حجت کہیں کا۔ خدانخواستہ اگر اِنھیں صفات کا حامل کوئی کم خواندہ، کج فہم اور کند ذہن مُلّا مل جائے تو ہمارے ہاں اُسے ’کٹھ مُلّا‘ کہہ دینا عام ہے۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا،کٹ حجت یا کٹ حجتی میں ’کٹھ‘ ہی کثرتِ استعمال سے کٹ کٹاکر’ کَٹ‘ رہ گیا ہے۔ ورنہ لغت میں ’کٹ‘ کے جتنے معانی اور جتنے استعمالات ملیں گے ان کا تعلق کسی نہ کسی طور پر صرف ’کاٹنے‘ سے ہوگا، حتیٰ کہ دن، زندگی اور عمر بھی۔ نفیسؔ فریدی کو فکر تھی:

زندگی تو زندگی ہے کیسے کاٹی جائے گی
ایک دن کے کاٹنے میں جب کہ ہو جاتی ہے شام

’کٹ کے رہ جانا‘، ’کٹ کھنا شخص‘ (بات بات پرکاٹ کھانے والا) ’کٹا چھنی‘ یا ’ریل کا ڈبّا کٹ جانا‘ وٖغیرہ کہیں بھی کٹ کے وہ معانی نہیں ملتے جو ’کٹ حجتی‘ میں ہیں۔ البتہ ’کٹھ‘ میں حجت بازکی اُن تمام صفات کا احاطہ ہوجاتا ہے جو مفتی صاحب نے بیان فرمائی ہیں۔

کٹھ حجت یا کٹھ ملا کی ترکیب ادب میں جا بجا ملتی ہے۔ ’’اردو شاعری میں تصوف کی روایت‘‘ کے عنوان سے آلِ احمد سرورؔ لکھتے ہیں:

’’… تو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس طرح ملا،کٹھ ملائیت کا ترجمان ہے، اسی طرح یہ صوفی حقیقی صوفی نہیں ہے‘‘۔

اسرارؔ جامعی کی نظم ’’دلی درشن‘‘ کا ایک شعر ہے:

شر پنڈت، کٹھ مُلّا دیکھا
رام بھگت، عبداللہ دیکھا

کاٹھ کا مخفف ہونے کے علاوہ ’کٹھ‘ کے معانی محنت، مشقت اور ریاضت کے بھی ہیں۔ یہ’ کشٹ‘ کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ اسی ’کٹھ‘ سے ’کٹھن‘ اور ’کٹھنائی‘ بنا ہے۔محنت و مشقت سے بنایا ہوا قلعہ یا حصار’کوٹھ‘ کہلاتا ہے۔ گودام یا ذخیرہ بھی کوٹھ کہا جاتا ہے۔ کوٹھ سے کوٹھا، کوٹھی اور کوٹھری بنالی گئی۔ غالباً یہی لفظ ’کوٹ‘ میں تبدیل ہو کر بستیوں کے ناموں کے ساتھ بھی لگ گیا۔سیال کوٹ، جام کوٹ، شور کوٹ اور راولا کوٹ وغیرہ۔

حجت کا مطلب دعویٰ، دلیل، بحث و تکراراور باہم جھگڑنا ہے۔ ’ احتجاج‘ اسی سے بنا ہے۔حجت کا ایک مطلب قصدو ارادہ کرنا یا بار بار آنا جاناہے۔’ حج‘ کی اصطلاح انھی معنوں سے اخذ کی گئی ہے۔فقہ میں ’حجت‘ اُس قولِ فیصل (فیصلہ کُن بات) یا دلیل کو کہتے ہیں جس کے بعد کچھ کہنے سننے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مثلاً: ’’اللہ کا حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی سنت ہمارے لیے حجت ہے‘‘۔

بہر حال، کٹھ حجتی ہو یا کٹ حجتی، ہیں دونوں بُری۔ ان سے بچنے کا حکم ہے۔سورۃ المومنون کی آیت نمبر 3اور سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 72 کی رُو سے اہلِ ایمان لغو، فضول، لایعنی اور لاحاصل باتوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جہاں کسی قسم کی فضولیات ہو رہی ہوں وہاں سے ان کا گزرہو تو مہذّب طریقے سے کترا کر نکل جاتے ہیں۔

Delete 44 saved words?

کیا آپ واقعی ان اندراجات کو حذف کر رہے ہیں؟ انہیں واپس لانا ناممکن ہوگا۔